اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ایرانی صدر نے کہا ہے کہ اگر جوہری مذاکرات کے آخری مرحلہ میں ایران مخالف پابندیوں کے مکمل خاتمہ نہ ہوں تو جوہری مسلے پر کسی بھی قسم کا حتمی معاہدہ ممکن نہیں ہوگا.
ان خيالات كا اظہار حجت الاسلام و المسلمين 'حسن روحاني' نے بدھ كے روز ايران كے شمال ميں واقع صوبہ گيلان كے دارالحكومت 'رشت' شہر كے عوام كے ايك بڑے اجتماع سے خطاب كرتے ہوئے كيا.
عالمي طاقتوں كو مخاطب كرتے ہوئے صدر مملكت نے كہا كہ ہم آپ لوگوں كو يہ بتانا چاہتے ہيں كہ ہمارے فريق امريكي كانگريس اور اس كے انتہا پسند نمائندے نہيں ہيں بلكہ ہمارے سامنے ايك فريق ہے جس كا نام گروپ 1+5 ہے.
آئندہ ہفتے كو شروع ہونے والے جوہري مذاكرات كے اگلے دور كا ذكر كرتے ہوئے انہوں اس بات پر زور ديا كہ ہميں اس سے كوئي غرض نہيں كہ امريكي سينيٹ كيا چاہتي يا امريكي ايجنٹ كيا چاہتے ہيں؛ ان باتوں كا ايراني قوم اور حكومت سےكوئي تعلق نہيں، ہم مذاكرات كے عمل ميں باہمي احترام اور خيرسگالي كے بدلے ميں عزت اور وقار كا مطالبہ كرتے ہيں.
ايراني صدر نے اس بات پر زور ديا كہ سب جان ليں اگر ايران پر سے پابنديوں كا خاتمہ نہ كيا گيا تو كوئي بھي معاہدہ ممكن نہيں ہوگا.
انہوں نے گروپ 1+5 كے ركن ممالك كو مخاطب كرتے ہوئے اس بات پر زور ديا كہ ايران كو عزت اور وقار پر مبني حتمي معاہدے كي ضرورت ہے.
حجت الاسلام و المسلمين حسن روحاني نے مزيد كہا كہ ہم كسي كے خلاف ناانصافي اور شكست نہيں چاہتے تاہم حتمي جوہري معاہدے ميں مغربي ممالك، علاقائي ممالك سميت ايراني قوم اور سب كا مفاد ہے.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲